اس بارے میں توفیقِ الٰہی سے ذیل میں دو روایات پیش کی جا رہی ہیں:
ا: حضراتِ ائمہ ابن سعد، ابن السُّنِّی ، طبرانی اور بزار نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ
''انصار کے کچھ لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا:
'' عِنْدَکَ فَاطِمَۃُ ، تَأْتِيْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ''' ( [1] )
''آپ کے پاس فاطمہ۔ رضی اللہ عنہا ۔ ہیں، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جائیے۔ '' (یعنی ان سے رشتہ دینے کی درخواست کیجیے) ۔
چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' مَا حَاجَۃُ ابْنِ أَبِيْ طَالِبٍ؟ ''
'' ابن ابی طالب کی حاجت کیا ہے؟ ''
انہوں نے عرض کیا:
'' ذَکَرْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔''
''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی۔ رضی اللہ عنہا ۔ کا ذکر کیا۔'' ( [2] )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' مَرْ حَبًا وَأَھْلًا ۔''
'' مَرْحَبًا وَ أَھْلًا۔''' ( [3] )
[2] حضرت علی رضی اللہ عنہ نے از راہِ حیا اس طرح گزارش پیش کی۔ مقصود یہ تھا ، کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں ان کا رشتہ طلب کرنے کی درخواست لے کر حاضر ہوا ہوں۔
[3] یعنی خوش آمدید اور تم اپنے ہی گھر میں آئے ہو۔