فهرس الكتاب

الصفحة 83 من 170

نواسوں کے معاملات سے گہری دلچسپی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور عنایت صرف بیٹیوں کے معاملات تک ہی نہ تھی، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں کے معاملات کا بھی خوب خیال رکھتے تھے۔ اس بارے میں توفیقِ الٰہی سے ذیل میں چار مثالیں پیش کی جارہی ہیں:

ا: حسن رضی اللہ عنہ کے کان میں اذان دینا:

امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَذَّنَ فِيْ أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رضی اللّٰه عنہما حَیْنَ وَلَدَتْہُ فَاطِمَۃُ رضی اللّٰه عنہا ۔'' ( [1] )

[''جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو جنم دیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کان میں اذان دیتے دیکھا۔''

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اذان دینے میں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ حکمت یہ تھی، کہ بچے کے کانوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی پر مشتمل الفاظ اور توحید و رسالت کی وہ گواہی داخل ہو، جس کے ساتھ بندہ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔

شاید اس میں یہ بھی حکمت ہو، کہ بچے کو اللہ تعالیٰ اور ان کے دین کی طرف

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت