فهرس الكتاب

الصفحة 50 من 170

اس بارے میں ذیل میں تفصیل ملاحظہ فرمائیے:

۱:بیٹی کو صبح و شام پڑھنے والی دُعا کی تعلیم:

حضراتِ ائمہ نسائی ، ابن السُّنِّی اورحاکم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

'' مَا یَمْنَعُکِ أَنْ تَسْمَعِيْ مَا أُوْصِیْکِ بِہٖ ، أَنْ تَقُوْلِيْ إِذَا أَصْبَحْتِ وَإِذَا أَمْسَیْتِ:

'' یَا حَيُّ ! یَا قَیُّوْمُ ! بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْلِيْ کُلَّہُ ، وَلَا تَکِلْنِيْ إِلیٰ نَفْسِيْ طَرَفَۃَ عَیْنٍ۔'' ( [1] )

[''میں تمہیں جو وصیت کر رہا ہوں، اس کے سننے [یعنی اس کے مطابق عمل کرنے] سے تمہیں کیا چیز روک رہی ہے: یہ کہ تم صبح اور شام کے وقت کہو:

[ یَا حَیُّ ! یَا قَیُّوْمُ! بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ ، أَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ کُلَّہُ ، وَلَا تَکِلْنِيْ إِلیٰ نَفْسِيْ طَرَفَۃَ عَیْنٍ۔]

[ترجمہ: اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! ہر چیز کو قائم رکھنے والے! میں آپ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت