فهرس الكتاب
''أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ۔'' تَعْنِيْ إِزَارَاہُ۔'' ( [1] )
''انہیں اس میں لپیٹ دو'' یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک دوسری روایت میں ہے:
أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ لَہُنَّ فِيْ غُسْلِ ابنَتہِ:
''ابْدَ أْنَ بِمَیَامِنِہَا، وَمَواضِعِ الْوُضُوْئِ مِنْھَا۔'' ( [2] )
بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے غسل کے متعلق ان سے فرمایا:
[ان کی دائیں طرف اور وضو کی جگہوں سے (غسل کی) ابتدا کرنا'']
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی صاحبزادیوں سے قلبی تعلق چنداں محتاج بیان نہیں۔ ان کی تکلیف اور خصوصًا وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غم و اندوہ کی کیفیت احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں، لیکن اس سب کچھ کے باوجود صاحبزادی کے صحیح طریقہ پر غسل کروانے کا اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک لفظ سے ٹپک رہا ہے۔ فَصَلَوَاتُ رَبِّيْ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ۔
امام بخاری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں
[2] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب یبدأ بمیا من المیت، رقم الحدیث ۱۲۵۵، ۳/۱۳۰؛ وصحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في غسل المیت، رقم الحدیث ۴۳۔ (۹۳۹) ، ۲/۶۴۸۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔