فهرس الكتاب

الصفحة 125 من 170

[''اس دن کے بعد میں نے نہ کبھی گرمی کو محسوس کیا اور نہ (ہی) سردی کو۔'']

اللہ اکبر! اللہ کریم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر عظیم شرفِ قبولیت عطا فرما یا۔

نوٹ: اس بارے میں چوتھی مثال یہ ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ، حسن و حسین کے ہمراہ حضرت علی رضی اللہ عنہم کے لیے گندگی کی دوری اور خوب پاکیزگی کی دعا کی۔ ( [1] )

۔ج۔

دامادوں کی خیر خواہی اور ان کے ساتھ بہترین معاملہ

توفیقِ الٰہی سے اس بارے میں سات مثالیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں:

۱:داماد کو مضرِّ صحت چیز کھانے سے روکنا اور مفید چیز کھانے کی تلقین کرنا:

حضراتِ ائمہ احمد، ابو داؤد، ترمذی ، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت اُم منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا ( [2] ) سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور ان کے ساتھ علی۔ رضی اللہ عنہ ۔ تھے۔ اور علی۔ رضی اللہ عنہ ۔ حالتِ نقاہت میں تھے ( [3] ) اورہمارے ہاں خشک کھجوروں کے لٹکائے ہوئے خوشے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کھاتے تھے۔ علی۔ رضی اللہ عنہ ۔ نے بھی کھانے کی خاطر (اس کو ) پکڑا ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' مَہْ ۔ یَا عَلِيٌّ ! إِنَّکَ نَاقِہٌ۔''

[2] یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خالاؤںمیں سے تھیں۔ (ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب ۱۲؍۴۸۰) ۔

[3] یعنی وہ بیماری سے تازہ تازہ ہی شفا یاب ہوئے تھے۔ (ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۸؍۴۶) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت