فهرس الكتاب

الصفحة 37 من 170

[''اے اللہ! ان دونوں میں برکت ڈالیے ، اور ان دونوں پر برکت (نازل) فرمائیے اور ان دونوں کے لیے معاملہ میں برکت عطا فرمائیے۔'']

امام بزّار کی روایت میں ہے:

'' اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْھِمَا وَبَارِکْ لَھُمَا فِيْ شِبْلَیْھِمَا۔'' ( [1] )

[''اے اللہ! ان دونوں میں برکت ڈالیے اور ان دونوں کے لیے ان کے دونوں بچوں میں برکت عطا فرمائیے۔'']

۲: امام طبرانی نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''جب علی کو فاطمہ رضی اللہ عنہما کا تحفہ دیا گیا ، تو ہم نے ان کے گھر میں بچھائی ہوئی کنکریوں، ایک کھجور کے درخت کی چھال سے بھرے ہوئے تکیہ ، ایک مٹکے اور ایک کوزے کے سوا کچھ نہ پایا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا:

'' لَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا '' أَوْ قَال: ''لَا تَقْرَبَنَّ أَھْلَکَ حَتّٰی آتِیَکَ۔''

[''بالکل کچھ بھی نہ کرنا ''] یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( [2] ) : [''میرے آنے تک اپنے اہل کے بالکل قریب نہیں جانا۔'']

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا:

'' أَ ثَمَّ أَخِيْ؟''

[''کیا وہاں میرا بھائی ہے؟'']

[2] راوی کو شک ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کون سا جملہ استعمال فرمایا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت