فهرس الكتاب

الصفحة 130 من 394

''وہ ان دونوں پر ایلوے کا لیپ کر لے۔''

۲: امام بیہقی نے شمیسہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:

''احرام کے دوران میری آنکھوں میں تکلیف ہوئی، تو میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سرمے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا:

'' اِکْتَحِلْي بِأَيِّ کُحْلٍ شِئْتِ غَیْرَ الْإِثْمَدِ-- أَوْ قَالَتْ: '' غَیْرَ کُلِّ کُحْلٍ أَسْوَدَ-- أَمَا إِنَّہُ لَیْسَ بِحَرَامٍ ، وَلٰکِنَّہُ زِیْنَۃٌ ، وَنَحْنُ نَکْرَہُہُ۔'' [1]

''اثمد کے علاوہ جو سرمہ چاہو استعمال کرو-- یا انہوں نے فرمایا: '' ہر سیاہ سرمے کے علاوہ -- '' سنو! بے شک وہ حرام تو نہیں ، لیکن وہ زینت ہے اور ہم اسے (حالتِ احرام میں استعمال کرنا) ناپسند کرتے ہیں۔''

۳: امام بیہقی نے نافع سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق روایت نقل کی ہے:

'' أَنَّہُ کَانَ إِذَا رَمَدَ ، وَہُوَ مُحْرِمٌ، أَقْطَرَ فِيْ عَیْنَیْہِ الصَّبِرَ إِقْطَارًا۔''

''بے شک جب احرام کے دوران ان کی آنکھیں دکھتیں ، تو وہ ان میں ایلوا کے قطرے ڈالتے۔''

اور بے شک انہوں نے فرمایا:

''یَکْتَحِلُ الْمُحْرِمُ بِأَيِّ کُحْلٍ إِذَا رَمَدَ ، مَالَمْ یَکْتَحِلْ بِطِیْبٍ، وَمِنْ غَیْرِ رَمَدٍ۔'' [2]

[2] السنن الکبریٰ ، کتاب الحج، رقم الروایۃ ۹۱۳۰، ۵,؍۹۹۔ نیز ملاحظہ ہو: المحلي ، ۸۹۵۔ مسألۃ ۷؍۴۰۰؛ و شرح السنۃ ۷؍۲۴۶؛ و موسوعۃ فقہ عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰه عنہما ص ۷۳۔۷۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت