فهرس الكتاب

الصفحة 131 من 394

''محرم آنکھوں کے دکھنے پر اور اس کے بغیر بھی ، خوشبو سے خالی جو سرمہ چاہے، استعمال کرے۔''

تینوں روایات کے حوالے سے چھ باتیں:

۱: پہلی حدیث پر امام ترمذی نے درجِ ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ مَا جَائَ أَنَّ الْمُحْرِمَ یَشْتَکِيْ عَیْنَہُ فَیُضَمِّدُہَا بِالصَّبِرِ] [1]

[محرم کے اپنی آنکھ دکھنے پر اسے ایلوے کے ساتھ لیپ دینے کے متعلق جو وارد ہوا ہے، اس کے بارے میں باب]

امام نووی نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[بَابُ جَوَازِ مُدَاوَۃِ الْمُحْرِمِ عَیْنَیْہِ] [2]

[محرم کے اپنی آنکھوں کے علاج کے جواز کے متعلق باب]

علامہ قرطبی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

'' وَلَا خَلَافَ فِيْ جَوَازِ مِثْلِ ہٰذَا مِمَّا لَیْسَ فِیْہِ طِیْبٌ وَلَا زِیْنَۃٌ۔'' [3]

''خوشبو اور زینت سے خالی ایسے علاج کے کرنے میں کوئی اختلاف نہیں۔''

امام نووی اس کی شرح میں تحریر کرتے ہیں:

'' وَاتَّفَقَ الْعُلَمَائُ عَلیٰ جَوَازِ تَضْمِیْدِ الْعَیْنِ وَغَیْرِہَا بِالصَّبِرِ وَنَحْوِہِ مِمَّا لَیْسَ بِطِیْبٍ ، وَلَا فِدْیَۃَ فِيْ ذٰلِکَ۔'' [4]

[2] صحیح مسلم ۲؍۸۶۳۔

[3] المفہم ۳؍۲۹۰۔

[4] شرح النووي ۸؍۱۲۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت