فهرس الكتاب

الصفحة 137 من 394

میں (مزید) قریب ہوا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''أَ یُؤْذِیْکَ ہُوَامُّکَ؟''

''کیا تمہیں تمہاری جوئیں اذیت دے رہی ہیں؟''

ابن عون [1] نے بیان کیا: '' میرا خیال ہے ، کہ انہوں نے عرض کیا: '' جی ہاں۔''

انہوں نے بیان کیا:

'' فَأَمَرَنِيْ بِفِدْیَۃٍ مِنْ صِیَامٍ أوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ ، مَا تَیَسَّرَ۔'' [2]

''پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزوں، صدقے یا قربانی میں سے جو میسر ہو، اس کا فدیہ دینے کا حکم دیا''

صحیح البخاري میں ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' اِحْلِقْ رَأْسَکَ ، وَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَ یَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ أَوِانْسُکْ بِشَاۃٍ۔'' [3]

''اپنا سر منڈاؤ اور تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری ذبح کرو۔''

سنن أبی داؤد میں ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' إِنْ شِئْتَ فَانْسُکْ نَسِیْکَۃً ، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَٰیَّامٍ ،

[2] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم إذا کان بہ أذی ، ووجوب الفدیۃ لحلقہ و بیان قدرہا ، رقم الحدیث ۸۱۔ (۱۲۰۱) ، ۲؍۸۶۰۔

[3] صحیحٍ البخاري ، کتاب المحصر ، باب قول اللّٰہ تعالیٰ: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَوْ بِہٖ أَذًی مِّنْ رَأسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} ، جزء من رقم الحدیث ۱۸۱۴، ۴؍۱۲۔ نیز ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم، رقم الحدیث ۸۰۔ (۱۲۰۱) ، ۲؍۸۵۹۔۸۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت