فهرس الكتاب

الصفحة 149 من 394

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''صَیْدُ الْبَرِّ لَکُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ، مَالَمْ تَصِیْدُوْہُ أَوْ یُصَدْلَکُمْ۔'' [1]

''حالتِ احرام میں تمہارے لیے برّی شکار (کا کھانا) حلال ہے، جب کہ تم خود اس کا شکار نہ کرو یا تمہار ے لیے (اس کا) شکار نہ کیا جائے۔''

دونوں حدیثوں کے حوالے سے پانچ باتیں:

۱: امام نووی نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی شرح میں لکھا ہے:

''صَرِیْحٌ فِيْ أَنَّ الْحَلَالَ إِذَا صَادَ صَیْدًا ، وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْمُحْرِمِ إِعَانَۃٌ وَلَا إِشَارَۃٌ وَلَا دَلَالَۃٌ عَلَیْہِ ، لِلْمُحْرِمِ أَکْلُہُ۔'' [2]

''یہ (اس بارے میں) صریح ہے ، کہ جب حلال شخص شکار کرے اور محرم کی جانب سے اعانت ، اشارہ یا راہ نمائی نہ ہو، تو محرم کے لیے اس کا کھانا جائز ہے۔''

ب: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پر امام ابن حبان کے تحریر کردہ عنوانات میں سے دو درج ذیل ہیں:

۱: [ذِکْرُ الْبِیَانِ بِأَنَّ الْمُحْرِمَ لَہُ أَکْلُ مَا أُہْدِيَ لَہُ مِنَ الصَّیْدِ، مَالَمْ یَکُنْ بِأَمْرِہِ أَوْ بِإِشَارَتِہِ] [3]

[2] شرح النووي ۸؍۱۱۱۔

[3] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الحج، باب ما یباح للمحرم ومالا یباح۹؍۲۸۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت