فهرس الكتاب

الصفحة 259 من 394

ب: امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن جمرۃ (العقبہ) کے پاس کھڑے تھے، کہ ایک شخص نے آپ کے پاس آکر عرض کیا:

''یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرِمِيَ۔''

''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی سے پہلے سر مونڈا۔''

تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

''اِرْمِ وَلَا حَرَجَ۔'' [1]

''رمی کرو اور کچھ مضائقہ نہیں۔''

ج: امام احمد کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں روایت کردہ حدیث میں ہے:

''پھر ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:

''یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّيْ أَفَضْتُ قَبْلَ أَن أَحْلِقَ۔''

''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے سر مونڈنے سے پیشتر [طواف] افاضہ کیا۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''اِحْلِقْ أَوْ قَصِّرْ، وَلَا حَرَجَ۔'' [2]

'' (سر) مونڈو یا (بال) کاٹو، (جو کرچکے ہو، اس میں) کوئی حرج نہیں۔''

[2] المسند، جزء من رقم الحدیث ۵۶۲، ۲/۱۷۔۱۸۔ شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۲/۱۷) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت