رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ۔'' [1]
''جو شخص قربانی ہمراہ لایا ہے، تو اس کے لیے اپنا حج پورا کرنے تک (احرام کی وجہ سے) حرام کردہ کوئی چیز بھی حلال نہیں۔ اور جو شخص اپنے ہمراہ قربانی نہیں لایا تو وہ بیت (اللہ) کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرکے بال ترشوا کر حلال [2] ہوجائے۔ پھر وہ (ازسر نو آٹھویں ذوالحجہ کو) حج کا احرام باندھے۔ جو شخص قربانی نہ پائے، تو وہ تین روزے حج کے دنوں اور سات اپنے گھر واپس آنے پر رکھے۔''
ان دلیلوں کے حوالے سے پانچ باتیں:
ا: اللہ تعالیٰ نے حج تمتع کرنے والے کو کسی مخصوص قسم کی قربانی کرنے کا پابند نہیں کیا، کہ مثلًا (اونٹ کی قربانی کرو) ۔ امام بخاری نے ابوجمرہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ''میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (حج) تمتع کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے مجھے اسے کرنے کا حکم دیا۔
میں نے ان سے قربانی کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا:
''فِیْہَا جَزُوْرٌ أَوْ بَقَرَۃٌ أَوْ شَاۃٌ أَوْ شِرْکَ فِيْ دَمٍ۔'' [3]
''اس میں اونٹ یا گائے یا بکری یا کسی (اونٹ یا گائے کی) قربانی میں شریک [4] ہونا ہے۔''
[2] یعنی احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجائے۔
[3] صحیح البخاري، کتاب الحج، باب {فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعَمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ…} الآیۃ، جزء من رقم الحدیث ۱۶۸۸، ۳/۵۳۴۔
[4] اونٹ اور گائے میں شریک ہونے کے متعلق مفصل گفتگو اس کتاب کے ص ۳۱۵میں ملاحظہ فرمائیے۔