فهرس الكتاب

الصفحة 308 من 394

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں:

''أَعْلٰی الْہَدْيِ بَدَنَۃٌ، وَأَوْسَطُہُ بَقَرَۃٌ، وَأَدْنَاہُ شَاۃٌ۔'' [1]

''اعلیٰ قربانی اونٹ کی ہے، درمیانی گائے کی اور ادنیٰ بکری کی ہے۔''

ب: اللہ تعالیٰ نے دوسری آسانی یہ فرمائی، کہ قربانی کے میسر نہ آنے پر، اس کے بدلے میں روزے رکھنے کی اجازت دی۔ حافظ ابن حجر ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم: [پس جو شخص قربانی نہ پائے، وہ حج میں تین روزے رکھے…] کی شرح میں لکھتے ہیں:

''أَيْ لَمْ یَجِدِ الْہَدْيَ بِذٰلِکَ الْمَکَانِ، وَیَتَحَقَّقُ ذٰلِکَ بِأَنْ یَعْدِمَ الْہَدْيَ أَوْ یَعْدِمَ ثَمَنَہُ حِیْنَئَذٍ، أَوْ یَجِدُ ثَمَنَہُ لٰکِنْ یَحْتَاجُ إِلَیْہِ لِأَہَمَّ مِنْ ذٰلِکَ، أَوْ یَجِدُہُ لٰکِنْ یَمْتَنِعُ صَاحِبُہُ مِنْ بَیْعِہِ إِلَّا بِغَلَائِہِ فَیَنْتَقِلُ إِلَی الصَوْمِ کَمَا ہُوَ نَصُّ الْقُرْآنِ۔'' [2]

''یعنی وہ اس جگہ قربانی نہیں پاتا اور یہ اس طرح، کہ قربانی (کا جانور ہی) موجود نہیں یا تب اس کے پاس اس کی قیمت نہیں یا اس کے پاس اس کی قیمت تو ہے، لیکن اسے کسی اس سے زیادہ اہم مقصد کے لیے اس کی ضرورت ہے یا قیمت کے موجود ہونے کے باوجود اس کا مالک فروخت نہیں کر رہا یا وہ حقیقی کی بجائے گراں قیمت پر فروخت کرنے پر مصر ہے، تو وہ (ان سب صورتوں میں) قرآن (کریم) کی نص کے مطابق روزوں کی طرف منتقل ہوجائے گا۔''

ج: تیسری آسانی یہ ہے، کہ قربانی کے بدلے رکھے جانے والے دس روزوں

[2] فتح الباري ۳/۵۴۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت