فهرس الكتاب

الصفحة 326 من 394

قربانیاں ذبح کیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے یہ آسانی فرمائی ہے، کہ وہ اسی دن اور اس کے بعد منیٰ کے تینوں دنوں میں قربانی کرسکتے ہیں۔ توفیقِ الٰہی سے ذیل میں اس بارے میں قدرے تفصیل سے گفتگو کی جارہی ہے:

دو دلیلیں:

ا: حضرات ائمہ احمد، ابن حبان اور بیہقی نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''وَفِيْ کُلِّ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذِبْحٌ۔'' [1]

''اور سارے ایام تشریق [2] میں قربانی (کرنا جائز) ہے۔''

ب: امام ابن قیم لکھتے ہیں:

''وَلِأَنَّ الثَّلَاثَۃَ تَخْتَصُّ بِکَوْنِہَا أَیَّامَ مِنَی، وَأَیَّامَ الرَّمْیِ، وَأَیَّامَ التَّشْرِیْقِ، وَیُحْرَمُ صِیَامُہَا، فَہِيَ إِخْوَۃٌ فِيْ ہٰذِہِ الْأَحْکَامِ، فَکَیْفَ تَفْتَرِقُ فِيْ جَوَازِ الذَّبْحِ بِغَیْرِ نَصٍّ وَ لَا

[2] ایام التشریق سے مراد گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت