فهرس الكتاب

الصفحة 327 من 394

إِجْمَاعٍ۔'' [1]

''اور کیونکہ یہ تینوں دن منیٰ (میں ٹھہرنے) ، رمی کرنے، کھانے پینے کے دن ہونے اور ان میں روزے کے حرام ہونے کے حوالے سے سب احکام میں ایک جیسے ہیں، تو پھر یہ نص اور اجماع کے بغیر قربانی کرنے کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوسکتے ہیں؟''

علمائے امت کے اقوال:

۱: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:

''أَیَّامُ النَّحْرِ: یَوْمُ الْأَضْحَی وَثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ بَعْدَہُ۔'' [2]

''قربانی کے دن: عید الاضحی کا دن اور اس کے بعد تین دن ہیں۔''

۲: امام بیہقی نے حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، کہ انہوں نے فرمایا:

''اَلْأَضْحٰی ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ بَعْدَ یَوْمِ النَّحْرِ۔'' [3]

''قربانی یوم النحر کے تین دن بعد ہے۔ (یعنی قربانی کے چار دن ہیں، ایک دن عید الاضحی کا اور تین دن اس کے بعد والے) ۔

۳: امام بیہقی نے عطاء رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے فرمایا:

''یُذْبَحُ فِيْ أَیَّامِ مِنَی کُلِّہَا وَفِيْ یَوْمِ النَّفْرِ الْآخِرِ۔'' [4]

''منیٰ کے سب دنوں میں (بشمول) کوچ کرنے والے آخری دن کے قربانی کی جائے گی۔''

[2] المرجع السابق ۲/۳۱۹۔

[3] السنن الکبری، کتاب الضحایا، باب من قال الأضحي جائز یوم النحر وأیام منی کلہا لأنہا أیام النسک، رقم الروایۃ ۱۹۲۴۹، ۹/۴۹۹۔

[4] المرجع السابق، رقم الروایۃ ۱۹۲۵۰، ۹/۴۹۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت