فهرس الكتاب

الصفحة 79 من 394

'' (پہلے) اپنی طرف سے حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔''

مذکورہ بالا احادیث کے حوالے سے چھ باتیں:

۱: سفر کی استطاعت نہ رکھنے والے بوڑھے شخص کی طرف سے اس کے بیٹے کا حج و عمرہ کرنا۔

پہلی حدیث پر امام نسائی نے درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[اَلْعُمْرَۃُ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِيْ لَا یَسْتَطِیْعُ۔] [1]

[استطاعت نہ رکھنے والے شخص کی طرف سے عمرہ]

امام ابن خزیمہ نے اس پر حسب ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[بَابُ الْعُمْرَۃِ عَنِ الَّذِيْ لَا یَسْتَطِیْعُ الْعُمْرَۃَ مِنَ الْکِبَرِ] [2]

[کبر سنی کے باعث عمرے کی استطاعت نہ رکھنے والے شخص کی طرف سے عمرہ کرنے کے متعلق باب]

ب: خاتون کا سفر کی استطاعت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ باپ کی طرف سے حج کرنا۔

دوسری حدیث پر امام بخاری نے درج ذیل عنوان لکھا ہے:

[بَابُ الْحَجِّ عَمَّنْ لَا یَسْتَطِیْعُ الْثُبُوْتَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ] [3]

[سواری پر جم کر بیٹھنے کی طاقت نہ رکھنے والے شخص کی طرف سے حج کے متعلق باب]

امام نووی نے اسی حدیث پر حسب ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَۃٍ وَہَرَمٍ وَنَحْوِہِمَا أَوْلِلْمَوْتِ] [4]

[2] صحیح ابن خزیمۃ ، کتاب المناسک ۴؍۳۴۵۔

[3] صحیح البخاري ، کتاب جزاء الصید، ۴؍۶۶۔

[4] صحیح مسلم، کتاب الحج، ۲؍۹۷۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت