فهرس الكتاب

الصفحة 101 من 156

درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[ذِکْرُ إِثْبَاتِ نَضَّارَۃِ الْوَجْہِ فِي الْقِیَامَۃِ مَنْ بَلَّغَ لِلْمُصْطَفَی سُنَّۃً صَحِیْحَۃً کَمَا سَمِعَہَا] [1]

[مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ صحیحہ کو جیسے سنا،ویسے پہنچانے والے کے لیے[روزِ] قیامت چہرے کی تروتازگی کا ثبوت]

۲:رحمتِ الٰہی کی دعائے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں دعائے رحمت کی ہے،جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو سنے،یاد کرے اور دوسرے شخص کو پہنچا دے۔امام ابن حبان رحمہ اللہ نے حضرت ابان بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا:''دوپہر کے وقت کے قریب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مروان کے ہاں سے تشریف لائے،تو میں نے [اپنے دل میں] کہا:''اس [مروان] نے کوئی بات دریافت کرنے کی غرض سے انہیں بلا بھیجا ہوگا۔''

میں ان [زید رضی اللہ عنہ] کی جانب اٹھا اور ان سے اس بارے میں پوچھا،تو انہوں نے فرمایا:''اس نے ہم سے ان باتوں کے متعلق استفسار کیا،جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن رکھی تھیں۔''

[پھر یہ حدیث پڑھی]

"رَحِمَ اللّٰہُ امْرَئًا سَمِعَ مِنِّي حَدِیْثًا،فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ غَیْرَہُ،فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ إِلٰی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ،وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ…الحدیث" [2]

[2] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان،رقم الحدیث ۶۷،۱؍۲۷۰۔ (

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت