کتاب و سنت میں دعوت الی اللہ تعالیٰ کی فرضیت کے بہت زیادہ دلائل ہیں۔انہی میں سے تین ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں:
۱: ارشادِ رب العالمین:
{وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} [1]
[ترجمہ:اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو،جو بھلائی کی طرف دعوت دے،نیکی کا حکم دے اور بُرائی سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں]
آیت کریمہ سے استدلال:
اس آیت کریمہ میں [صیغہ امر] کے ذریعے مسلمانوں کو دعوت الی الخیر،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے اور صیغہ امر [لام امر] ہے،جو فعل مضارع پر داخل ہوا ہے اور وہ [ولتکن] ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے:
'' [ولتکن] میں لام [لام الامر] ہے۔'' [2]
شیخ ابن عاشور رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
'' {ولتکن منکم أمۃ} کا صیغہ وجوب کا صیغہ ہے اور یہ امر پر دلالت کرنے کے لیے (افعلوا) [3] سے زیادہ صریح ہے۔'' [4]
اور صیغہ امر،جیسا کہ علمائے امت نے بیان کیا ہے،وجوب پر دلالت کرتا
[2] تفسیر البغوي ۱؍۳۳۸؛ نیز ملاحظہ ہو:تفسیر الخازن ۱؍۳۹۹۔
[3] [افعلوا] :صیغہ امر ہے اور معنی [تم کرو] ہے۔
[4] تفسیر التحریر والتنویر،الجزء ۳؍ص۳۷۔