فهرس الكتاب

الصفحة 44 من 156

بہترین بات والو ں کی ایک صفت دعوت الی اللہ تعالیٰ

دعوتِ دین کی قدر و منزلت کے بارے میں ایک بات یہ ہے،کہ یہ کام ان لوگوں کے اوصاف میں سے ہے،جنہیں اللہ تعالیٰ نے [بہترین قول والا] قرار دیا ہے۔

اس بات کی دلیل:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَآ اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ} [1]

[ترجمہ:اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے،جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے،کہ میں یقینًا مسلمانوں میں سے ہوں]

آیت کریمہ کا معنی:

آیت کریمہ میں موجود استفہام نفی کے معنی میں ہے [2] اور آیت کریمہ کا معنی یہ ہے:اس شخص سے بھلی بات کسی کی نہیں،جس میں دعوت الی اللہ،عمل صالح اور عزت و افتخار سے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے تین اوصاف ہوں۔ [3]

علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے:

''اس سے عمدہ کوئی چیز نہیں،اس کی راہ سے زیادہ

[2] ملاحظہ ہو:روح المعاني ۴۴؍۱۲۲؛ وتفسیر السعدي ص ۸۲۰۔

[3] ملاحظہ ہو:المحرر الوجیز ۱۴؍۱۸۵؛ وتفسیر البیضاوی ۲؍۳۵۳؛ وتفسیر أبي السعود ۸؍۱۴؛ وتفسیر القاسمي ۱۴؍۲۷۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت