فهرس الكتاب

الصفحة 126 من 156

نیکی کا حکم دینے والے کے لیے اجر عظیم

دعوت الی اللہ تعالیٰ کا مقام و رتبہ نمایاں کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے،کہ اللہ مالک الملک نے نیکی کا حکم دینے والے کو اجر عظیم دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔

اس بات کی دلیل:

مولائے کریم نے ارشاد فرمایا:

{لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰہُمْ اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍ بَیْنَ النَّاسِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا} [1]

[ان کے اکثر مشورے بے خیر ہیں،ہاں اس کے مشورے میں خیر ہے،جو صدقہ کرنے،نیک کام کرنے یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے،اسے ہم یقینًا بہت بڑا ثواب دیں گے]

آیت کریمہ کی تفسیر:

امام طبری رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں: (لَا خَیْرَ فِيْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰہُمْ) تمام لوگوں کی بہت سی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں (إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَۃٍ أَوْ مَعْرُوْفٍ) ''مگر جو شخص صدقہ یا بھلائی کا حکم دے۔'' اور [معروف] [2]

[2] (معروف) کی مزید تعریفات کے لیے ملاحظہ ہو:کتاب ''فضل الدعوۃ إلی اللّٰہ تعالی'' ص ۸۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت