فهرس الكتاب

الصفحة 47 من 156

(داعی کو) علمی اور عملی کمال حاصل ہو،وگرنہ دعوت درست نہ ہوگی۔'' [1]

علم و عمل والے معلم کی شان و عظمت:

اس بارے میں ذیل میں حضرت فضیل اور امام ابن قیم رحمہما اللہ کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

ا:امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا:

''علم و عمل والے معلم کو آسمانوں کی بادشاہی میں [کبیر] کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔'' [2]

شیخ مبارکپوری رحمہ اللہ اس قول کی شرح میں لکھتے ہیں:

''معنی یہ ہے کہ آسمانوں والے اس کی شان و عظمت کی بنا پر اسے [کبیر] کے لقب سے پکارتے ہیں،کیونکہ اس میں علم،عمل اور تعلیم کی تین خوبیاں اکٹھی ہوگئیں۔'' [3]

ب:امام ابن قیم رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے:

''علم حاصل کرنے،اس کے مطابق عمل کرنے اور اسے سکھلانے کو آسمانوں کی بادشاہت میں [عظیم] کے نام کے ساتھ پکارا جاتا ہے۔'' [4]

اللہ تعالیٰ کے دین،عبادت اور محبت و معرفت کی طرف دعوت دینے والوں کے متعلق امام رحمہ اللہ ہی رقم طراز ہیں۔''

''یہ لوگ مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے خواص میں سے ہیں اور اپنے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے اس کے ہاں سب سے بلند و بالا اور اونچی شان و عظمت والے ہیں۔'' [5]

[2] جامع الترمذي،أبواب العلم،باب في فضل الفقہ علی العبادۃ،۷؍۳۸۰۔

[3] تحفۃ الأحوذي ۷؍۳۸۰۔

[4] زاد المعاد ۳؍۱۰۰۔

[5] مفتاح دار السعادۃ ۱؍۱۵۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت