فهرس الكتاب

الصفحة 39 من 156

نہیں،کہ اللہ تعالیٰ اسے کتاب،حکم اور نبوت دے،پھر وہ لوگوں سے کہے،کہ تم اللہ تعالیٰ کوچھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ،بلکہ [وہ تو کہے گا،کہ] تم ربانی بن جاؤ،اس لیے،کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے،کہ تم خود پڑھا کرتے تھے۔]

آیت کریمہ سے استدلال:

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے،کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی امت کے لوگوں کو {رَبَّانِیِّیْنَ} بن جانے کا حکم دیا کرتے تھے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ آیت شریفہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''رسول لوگوں سے یہ کہتا:''ربانیین بنو'' [1] اور کسی شخص کے [رَبَّانِی] بننے کے لیے تین خصلتوں کا ہونا ضروری ہے:

(۱) خیر سیکھے۔

(۲) سیکھی ہوئی خیر پر عمل کرے۔

(۳) وہ دوسروں کو خیر سکھلائے۔

اس بارے میں امام ابوعبیدہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:

'' [رَبَّانِی] کا لفظ ایسے شخص پر دلالت کرتا ہے،جو علم حاصل کرے،اس پر عمل کرے اور دوسروں کو خیر کی باتوں کی تعلیم دے۔'' [2]

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس کے متعلق تحریر کیا ہے:

''سلف کا اس بات پر اجماع ہے،کہ کوئی عالم اس وقت تک [رَبَّانِی] کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا،جب تک کہ وہ حق کو پہچان نہ لے اور اس پر عمل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔اسے آسمانوں کی بادشاہتوں

[2] ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۸؍۱۱۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت