نہیں،کہ اللہ تعالیٰ اسے کتاب،حکم اور نبوت دے،پھر وہ لوگوں سے کہے،کہ تم اللہ تعالیٰ کوچھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ،بلکہ [وہ تو کہے گا،کہ] تم ربانی بن جاؤ،اس لیے،کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے،کہ تم خود پڑھا کرتے تھے۔]
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے،کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی امت کے لوگوں کو {رَبَّانِیِّیْنَ} بن جانے کا حکم دیا کرتے تھے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ آیت شریفہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
''رسول لوگوں سے یہ کہتا:''ربانیین بنو'' [1] اور کسی شخص کے [رَبَّانِی] بننے کے لیے تین خصلتوں کا ہونا ضروری ہے:
(۱) خیر سیکھے۔
(۲) سیکھی ہوئی خیر پر عمل کرے۔
(۳) وہ دوسروں کو خیر سکھلائے۔
اس بارے میں امام ابوعبیدہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
'' [رَبَّانِی] کا لفظ ایسے شخص پر دلالت کرتا ہے،جو علم حاصل کرے،اس پر عمل کرے اور دوسروں کو خیر کی باتوں کی تعلیم دے۔'' [2]
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس کے متعلق تحریر کیا ہے:
''سلف کا اس بات پر اجماع ہے،کہ کوئی عالم اس وقت تک [رَبَّانِی] کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا،جب تک کہ وہ حق کو پہچان نہ لے اور اس پر عمل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔اسے آسمانوں کی بادشاہتوں
[2] ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۸؍۱۱۲۔