فهرس الكتاب

الصفحة 30 من 156

دعوت دینے،نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کے لیے مبعوث فرمایا۔

ا:اس بات کے چند دلائل:

قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے۔انہی میں سے چار آیات شریفہ درج ذیل ہیں:

۱:ارشادِ ربانی:

{وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ} [1]

[ترجمہ:ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا،کہ (لوگو!) صرف اللہ تعالیعلامہ زمخشری رقم طراز ہیں:

''ہر ایک امت میں اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمایا،جو انہیں خیر کا حکم دیتا اور شر سے بچنے کی تلقین کرتا اور [خیر] اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی عبادت کرنا ہے اور [شر] طاغوت کی اطاعت کرنا ہے۔'' [2]

اسدف

۲:ارشادِ ربانی:

{وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ} [3]

[ترجمہ:اور کوئی امت ایسی نہیں،کہ اس میں ڈرانے والا نہ گزرا ہو]

۳:ارشادِ ربانی:

{رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا} [4]

[ترجمہ:رسول خوشخبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے،تاکہ رسولوں کے بھیجنے کے بعد لوگوں کی کوئی حجت اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب بڑا

[2] الکشاف ۲؍۴۰۹۔

[3] سورۃ فاطر ؍ الآیۃ ۲۴۔

[4] سورۃ النساء ؍ الآیۃ ۱۶۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت