کی خواہش کرنا،لیکن یہ تمنا نہ ہو،کہ وہ اس سے چھین لی جائے اور اس بات کی رغبت کرنے کو [منافسۃ] کہا جاتا ہے اور اگر یہ نیکی میں ہو تو قابل تعریف ہے۔اسی بارے میں [اللہ تعالیٰ کا ارشاد] {فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ} [1] ہے اور اگر یہ گناہ کے کام میں ہو،تو قابلِ مذمت ہے اور اسی بارے میں {وَلَا تَنَافَسُوْا} [2] ہے۔'' [3]
اس حدیث شریف میں دو باتوں کی ترغیب دی گئی ہے:راہ حق میں مال خرچ کرنا اور علم سکھلانا۔
امام طیبی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے:
''حدیث کا مقصود [راہِ خیر میں] مال خرچ کرنے اور علم سکھلانے کی ترغیب دینا ہے۔'' [4]
۳:دونوں کاموں کی عظمت:
اس حدیث میں مذکورہ بالا دونوں خصلتوں کی شان و عظمت اجاگر کی گئی ہے۔اسی کے متعلق ذیل میں تین علمائے امت کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:
ا:امام ابن منیِّر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:حدیث پاک کا مقصود رشک کے بلند ترین مرتبہ کو ان دو
[ترجمہ:مقابلہ کرنے والوں کو (ان کے حصول میں) مقابلہ کرنا چاہیے]
[2] ملاحظہ ہو:صحیح مسلم،کتاب البر،باب تحریم الظن والتجسس والتنافس،رقم الحدیث ۲۸۔ (۲۵۶۳) ،۴؍ ۱۹۸۵۔ [ترجمہ: (دنیا اور اس کے سازو سامان کے حصول کی رغبت میں) مقابلہ نہ کرو]
[3] ملاحظہ ہو:فتح الباری ۱؍۱۶۶۔۱۶۷۔
[4] دیکھئے:شرح الطیبی ۲؍۶۶۲۔