فهرس الكتاب

الصفحة 65 من 156

بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ [1]

[ترجمہ:تم بہترین امت ہو،جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے،کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو،بُری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو]

آیت کریمہ سے استدلال:

اس آیت کریمہ میں مولائے کریم نے یہ بیان فرمایا ہے،کہ اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم [خیر الامم] [2] ہے اور اس عظیم الشان مقام و مرتبہ پانے کا سبب یہ ہے،کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لاتی ہے۔اس بارے میں ذیل میں چار علمائے امت کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

ا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} کی تفسیر میں بیان فرمایا:

"خَیْرُ النَّاسِ لِلنَّاسِ،تَأْتُوْنَ بِہِمْ فِيْ السَّلَاسِلِ فِيْ أَعْنَاقِہِمْ،حَتَّی یَدْخُلُوْا فِيْ الْإِسْلَامِ" [3]

'' (تم) لوگوں کے لیے بہترین لوگ (ہو) ،تم انہیں گردنوں میں زنجیریں ڈالے لاتے ہو،یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں۔''

ب:حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے بیان کیا:''تم اس شرط کے پورا کرنے کی صورت میں بہترین امت ہو،کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو،بُرائی سے روکتے ہو

[2] سب امتوں میں سے بہترین امت۔

[3] صحیح البخاري،کتاب التفسیر،سورۃ آل عمران،باب {کنتم خیر أمۃ أخرجت للناس} ،رقم الروایۃ ۴۵۵۷،۸؍۲۲۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت