فهرس الكتاب

الصفحة 138 من 156

اس بات کو اچھی طرح واضح کیا ہے۔ذیل میں چند ایک مفسرین کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

ا:ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا:

(وَجَاہِدْہُمْ بِہٖ) بِالْقُرْآنِ۔ [1]

یعنی ان کے ساتھ قرآن کریم کے ساتھ جہاد کرو۔

ب:امام بغوی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے:

'' (وَجَاہِدْہُمْ بہِ) أَيْ بِالْقُرْآنِ (جِہَادًا کَبِیْرًا) شَدِیْدًا۔'' [2]

''یعنی ان کے ساتھ قرآن کریم کے ساتھ شدید جہاد کرو۔''

ج:حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:

'' (وَجَاہِدْہُمْ بہِ) أَيْ بِالْقُرْآنِ (جِہَادًا کَبِیْرًا) أَيْ تَامًا شَدِیْدًا۔'' [3]

''یعنی ان کے ساتھ قرآن کریم کے ساتھ پورا اور سخت جہاد کرو۔''

د:علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے قلم بند کیا ہے:

'' (آیت کی تفسیر میں) کہا گیا ہے کہ:تلوار کے ساتھ (جہاد کرو) ،لیکن یہ [معنی] بعید ہے،کیونکہ سورت مکی ہے اور جہاد کے حکم سے پہلے نازل ہوئی۔

(جِہَادًا کَبِیْرًا) ایسا جہاد ہو،کہ اس میں سستی و کوتاہی نہ ہو۔'' [4]

ھ:قاضی ابوسعود رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

" (وجَاہِدْہُمْ بِہِ) أَيْ بِالْقُرْآنِ،بِتَلَاوَۃِ مَا"

[2] تفسیر البغوي ۵؍۱۰۵۔

[3] زاد المسیر ۶؍۹۵۔

[4] تفسیر القرطبي ۱۳؍۵۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت