فهرس الكتاب

الصفحة 67 من 156

[ترجمہ:اور ہم نے اسی طرح تمہیں بہترین امت بنایا ہے،تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تم پر گواہ ہوجائیں]

آیت کریمہ سے استدلال:

اس آیت کریمہ میں مولائے عزوجل نے اس بات کی خبر دی ہے،کہ اس نے امت اسلامیہ کو بہترین امت بنایا،تاکہ وہ دوسری امتوں پر دعوت الی الخیر،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے گواہی دیں،جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت الی الخیر،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینے کی خاطر ان پر گواہ ٹھہرایا گیا۔

اس بارے میں ذیل میں دو مفسرین کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

ا: شیخ قاسمی رحمہ اللہ نے آیت کریمہ {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} کی تفسیر میں تحریر کیا ہے:

''اس آیت کی مانند ارشادِ [باری] تعالیٰ ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} [یعنی اور اسی طرح تمہیں بہترین امت بنایا] {لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ} [تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ۔'' [1]

شیخ قاسمی نے یہ بھی لکھا ہے:آیت کی [تفسیر] میں مجاہد رحمہ اللہ کا بیان بھی اس معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے: [ان کا بیان ہے] :تاکہ تم دیگر امتوں یہود و نصاریٰ اور مجوسیوں کے خلاف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گواہ بن جاؤ۔'' [2] اور تم یہ گواہی

[2] نیز ملاحظہ ہو:تفسیر الطبري،رقم الأثر ۲۱۸۶،۳؍۱۵۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت