قومًا لم یعملوا خیرًا قط۔'' [1]
فرشتوں نے سفارش کی' نبیوں نے سفارش کی' مومنوں نے سفارش کی، اب صرف (اللہ) ارحم الراحمین باقی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ جہنم سے ایک مٹھی بھر ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیکی نہ کی ہوگی۔
۱۔ شفاعت عظمیٰ۔
۲۔ دخول جنت کے لئے شفاعت۔
۳۔ مستحقین جہنم کے لئے شفاعت کہ انہیں اس میں داخل نہ کیا جائے۔
۴۔ جو جہنم میں داخل ہو چکے ہیں ' ان کے لئے شفاعت کہ انہیں اس سے نکال دیا جائے۔
۵۔ کچھ جنتیوں کے حق میں بلندیٔ درجات کے لئے شفاعت۔
۶۔ ابو طالب کے حق میں تخفیف عذاب کے لئے شفاعت۔ [2]
[2] الروضۃ الندیۃص۵۳۰وشرح الطحاویۃ ص۱۹۹بتحقیق ارنووط،و الکواشف الجلیۃ ص۵۸۹۔