حدیث میں ہے:
''والعرش فوق الماء، واللّٰہ فوق العرش، وھو یعلم ما أنتم علیہ۔'' [1]
عرش پانی کے اوپر ہے اور اللہ عزوجل عرش کے اوپر ہے' اور وہ تمہارے تمام اعمال کو جانتا ہے۔
ارشاد باری ہے:
{هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ} [2]
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر
[2] سورۃ الحدید: ۴۔