قاتل کو توبہ کی توفیق دیتا ہے ' چنانچہ وہ مسلمان ہوجاتا ہے اور اللہ کی راہ میں لڑکر شہید ہو جاتا ہے (اس طرح دونوں شہید ہوکر جنت میں داخل ہوجاتے ہیں) ۔
اس حدیث میں اللہ کے جلال و عظمت کے شایان شان اس کے لئے ہنسنے کی صفت کا نہایت واضح اور صحیح ثبوت ہے' یہ اللہ عزوجل کے فعلی صفات میں سے ایک صفت ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق جب اور جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔ [1]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
''لقد عجب اللّٰہ عزوجل أو ضحک من فلانٍ وفلانۃٍ فأنزل اللّٰہ عزوجل:
{وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [2]
[2] صحیح بخاری مع فتح الباری ۸/۶۳۱، اور آیت کریمہ سورۃ الحشر: ۹۔