ازل سے گفتگو کرنے والا ہے اور اپنی جلال و عظمت کے شایان شان جب چاہتا ہے کلام کرتا ہے۔ [1]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
'' ما مِنكُم أحَدٌ إلّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ ليسَ بيْنَهُ وبيْنَهُ تُرْجُمانٌ '' [2]
تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب ضرور بات کرے گا' اس طرح کہ اُس کے اور اُس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔
نیز ارشاد ہے:
یقول اللّٰہ تعالی:''یا آدم فیقول: لبیک وسعدیک والخیر في یدیک، قال: یقول: أخرج بعث النار، قال: وما بعث النار؟ قال: من کل ألف تسعمائۃ وتسعۃ وتسعین! قال: فذاک حین یشیب الصغیروتضع کل ذات حمل حملھا
[2] صحیح بخاری مع فتح الباری ۱۱/۳۷۷، وصحیح مسلم ۱/۲۰۱۔