صفات کے مثل قرار دیتے ہیں ' چنانچہ کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ مخلوق کے ہاتھ کی طرح ہے ' اللہ کا سننا مخلوق کے سننے کے مثل ہے (نعوذ باللہ) ' اللہ ظالموں کے قول سے بہت بلند وبالا اور برتر ہے۔رہے اہل سنت وجماعت تو وہ تشبیہ و تمثیل کے بغیر اللہ کے صفات کو ثابت کرتے ہیں ' اور نفی و انکار کے بغیر اللہ کو اس کے مخلوق کی مشابہت سے منزہ قرار دیتے ہیں۔اللہ عزوجل نے مذکورہ دونوں فرقوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
{لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} ۔
اس (اللہ) کے مثل کوئی چیز نہیں ' اور وہ سننے دیکھنے والا ہے۔
چنانچہ {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ} اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں 'سے ''مشبہہ'' کی {وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} وہ سننے دیکھنے والا ہے' سے ''معطلہ'' کی تردید ہوتی ہے۔ [1]