کی توفیق بخشی ' چنانچہ انہوں نے کہا کہ: اللہ تعالیٰ ہی بندوں اور ان کے افعال کا خالق ہے 'لیکن بندے حقیقت میں اسے انجام دینے والے ہیں ' نیز انہیں اپنے اعمال پر قدرت حاصل ہے' اور اللہ تعالیٰ ان کااور ان کی قدرتوں کا خالق ہے' ارشاد باری ہے:
{وَاللّٰہُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ} [1]
اور اللہ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔
نیز انہوں نے اللہ کی مشیت کی تابع بندوں کے لئے بھی چاہت و اختیار ثابت کیا ' جیسا کہ ارشاد باری ہے:
{لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ28} وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِينَ [2]
اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔اور تم بغیر رب دو جہاں کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔
[2] سورۃ التکویر: ۲۸،۲۹۔