فهرس الكتاب

الصفحة 103 من 216

{وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی اللّٰہِ وُجُوْہُہُمْ مُّسْوَدَّۃٌ} [1]

[اور روزِ قیامت آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں کو دیکھیں گے ، کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں ]

ان کے علاوہ بھی اس بارے میں متعدد آیات ہیں ۔ [2]

۲: بد ترین جھوٹوں میں سے ایک:

امام بزار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' مِنْ أَفْرَی الْفِرَی مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ۔'' [3]

''سب سے بڑے جھوٹوں میں سے کسی شخص کا میرے بارے میں وہ کہنا ہے ، جو میں نے نہ کہا ہو۔''

حافظ ابن حجر نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے ، کہ (أَفْرَی الفِرَی) سے مراد ہے جھوٹوں میں سے سب سے بڑاجھوٹ۔ابن بطال نے لکھا ہے، کہ (اَلْفَرِیَّۃ) سے مراد وہ سنگین جھوٹ ہے، جو [ سننے والے کو] حیرت زدہ کر دے۔ [4]

۳: خوشبوئے جنت سے محرومی:

امام طبرانی نے حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے

[2] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۶؍۵۴۱۔

[3] منقول از: مجمع الزوائد و منبع الفوائد، کتاب العلم، باب فیمن کذب علی رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم ، ۱؍ ۱۴۴باختصار۔ حافظ ہیثمی نے اس کے متعلق تحریر کیا ہے: ''البزار نے اس کو روایت کیا ہے اور اس کے روایت کرنے والے صحیح کے روایت کرنے والے ہیں۔'' (المرجع السابق ۱؍ ۱۴۴) ۔

[4] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۲؍۴۳۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت