فهرس الكتاب

الصفحة 141 من 216

حضرات صحابہ سے تہمت سے اجتناب کا عہد لیا۔ امام مسلم نے حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:

''أَخذَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا ، وَلَا نَسْرِقَ ، وَلَا نَزَنِيَ ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا ، وَلَا یَعْضَہَ بَعْضُنَا بَعْضًا…… '' [1]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اسی طرح عہد لیا ، جس طرح کہ عورتو ں سے عہد لیا، کہ: ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، چوری نہیں کریں گے، بدکاری نہیں کریں گے، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں گے اور ایک دوسرے پر جھوٹ اور بہتان نہ باندھیں گے… الحدیث''

شیخ البانی نے اپنی کتاب [سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ] میں اس حدیث پر ان الفاظ میں عنوان باندھا ہے:

[تَحْرِیْمُ الْبُھْتَانِ وَالْکَذِبِ] [2]

[بہتان اور جھوٹ کی حرمت]

ب: تہمت کی بعض شکلیں

تہمت کی متعدد شکلوں میں سے تین درج ذیل ہیں:

۱: بے گناہ کو موردِ الزام ٹھہرانا:

بعض بد نصیب لوگ بے گناہ اشخاص پر الزام لگاکر غضب الٰہی کو دعوت دیتے ہیں ۔ شاید ایسے نادانوں کے لیے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے قصہ میں سامانِ عبرت ہو۔امام بخاری نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں

[2] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۵؍۵۷۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت