فهرس الكتاب

الصفحة 33 من 216

جھوٹ کا زمانہ جاہلیت میں معیوب سمجھا جانا

جھوٹ کی برائی اور قباحت کے دلائل میں سے ایک یہ ہے، کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی اسے معیوب سمجھتے تھے۔ ان میں سے کوئی معزز شخص اپنی طرف جھوٹ کی نسبت گوارا نہ کرتا تھا۔ یہ حقیقت اس قصہ میں نمایاں ہے ، جس کو امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے ،کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتلایا، کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی موصول ہونے پر شاہ روم نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں [1] کو اپنے ہاں طلب کیا اور اپنے ترجمان کی وساطت سے ان سے دریافت کیا کہ:''نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص کے ساتھ سب سے قریبی رشتہ داری کس کی ہے؟ ''

ابو سفیان بیان کرتے ہیں: ''میں نے کہا: ''میں رشتہ داری میں اس کا سب سے قریبی ہوں ۔''

اس [شاہ روم] نے کہا:

''أَدْنُوْہُ مِنِّيْ، وَقَرِّبُوْا أَصْحَابَہُ ، فَاجْعَلُوْھُمْ عِنْدَ ظَھْرِہِ۔ ''

''اس کو میرے قریب کرو، اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کرو اور انھیں اس کے پس پشت بٹھا دو۔''

پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: ''ان سے کہو:

'' إِنِّيْ سَائِلٌ ھٰذَا عَنْ ھٰذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ کَذَبَنِيْ فَکَذِّبُوْہُ۔''

''میں اس شخص سے سوال کرنے لگا ہوں ۔ اگر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا،

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت