فهرس الكتاب

الصفحة 154 من 216

ب۔ ان سے ایسی بات چیت نہ کریں گے، جس سے انہیں فائدہ اور مسرت ہو۔ [1]

ج۔ اللہ تعالیٰ ان سے بالکل ہم کلام ہی نہ ہوں گے۔ [2]

۳: اللہ تعالیٰ ان کی طرف روزِقیامت کو نہیں دیکھیں گے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا یَنْظُرُ إِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ} یعنی وہ نظرِ رحمت سے انہیں نہ دیکھیں گے۔'' [3]

۴: اللہ تعالیٰ انہیں پاک نہ کریں گے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا یُزَکِّیْھِمْ } یعنی نہ تو ان کی تعریف کریں گے اور نہ ہی انہیں گناہوں کی آلودگی سے پاک کریں گے۔ [4]

۵: ان کے لیے عذاب الیم ہو گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} اور [أ لیم] سے مراد درد دینے والا ۔'' [5]

روزِ قیامت ان پانچ عذابوں میں مبتلا شخص کس قدر بد نصیب ہو گا!شیخ ابو بکر الجزائری نے تحریر کیا ہے ، کہ اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے ، کہ مال کی وجہ سے عہد شکنی کرنے والے اور جھوٹی قسم کھانے والے کا گناہ کس قدر سنگین ہے۔ [6]

ب: مال کی خاطر جھوٹی قسم کی دو شکلیں :

مال کی غرض سے جھوٹی قسم کھانے کی متعدد اشکال میں سے دو درج ذیل ہیں:

ا: مال مسلم ہڑپ کرنے کی خاطر جھوٹی قسم کھانا

[2] ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۱؍۵۳۴؛ نیز دیکھیے: تفسیر أبي السعود ۲؍۵۱۔

[3] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱؍۴۰۲؛ نیز ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۱؍۵۳۴۔

[4] ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۲؍۵۱، نیز ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۱۱؍۲۰۶؛ وتفسیر القاسمي ۴؍۱۲۵۔

[5] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب التفسیر ، ۸؍۲۱۲۔

[6] ملاحظہ ہو: أیسر التفاسیر ۱؍۲۷۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت