فهرس الكتاب

الصفحة 80 من 216

ب: ان پر ناپاک ہونے کا حکم:

اللہ عزوجل نے فرمایا: {إِنَّہُمْ رِجْسٌ} [بلاشبہ وہ ناپاک ہیں ] ۔ حافظ ابن کثیر

اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: '' یعنی ان کے باطن اور اعتقادات خبیث ہیں ۔ '' [1]

ج: جہنم کا ٹھکانا ہونا:

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: {وَّمَأْوَاھُمْ جَھَنَّمُ} [اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے] علامہ قرطبی اس کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: '' یعنی ان کی منزل اور جگہ [جہنم ہے] ۔ '' [2]

د: اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی نہ ہونا:

اللہ عزوجل نے فرمایا:

{فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ}

[سو اگر تم ان سے راضی [بھی] ہوگئے، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتے] ۔

اس کا مقصود یہ ہے… جیسا کہ علامہ شوکانی نے بیان کیا ہے… کہ اہل ایمان کو ان سے راضی ہونے سے روکا گیا ہے، کیونکہ جن سے اللہ تعالیٰ خوش نہ ہوں ۔ ایمان والے ان سے راضی نہیں ہوتے۔ [3]

[2] تفسیر القرطبي ۸؍۲۳۱۔

[3] ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۲؍ ۵۷۴ ؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۴؍ ۹۴۔۹۵ ؛ روح المعانی ۱۱؍ ۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت