فهرس الكتاب

الصفحة 164 من 216

وجہ سے تھی۔میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین [ کا تنازعہ] تھا، تو وہ مُکر گیا۔ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو پیش کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا:''کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے؟''

''میں نے عرض کیا: ''نہیں ۔''

''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: ''قسم اُٹھاؤ۔''

''میں نے عرض کیا: ''یا رسول اللہ! وہ تو قسم اُٹھا کر میرا مال لے جائے گا۔''

''تو اللہ تعالیٰ نے یہ [ آیت کریمہ] نازل فرمائی:

{إِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ أَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا… إِلیٰ آخر الآیۃ [1] } [2]

ح: کسی کے مال پر ناحق دعویٰ کا عبرتناک انجام:

امام مسلم نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ اروی نے ان کے ساتھ کسی گھر کے بارے میں تنازعہ کھڑا کیا۔ [3]

[2] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الشہادات، باب سؤال الحاکم المدعي، ھل لک بینۃ قبل الیمین؟ رقمي الحدیثین ۲۶۶۶، ۲۶۶۷، ۵؍۲۷۹۔۲۸۰۔

[3] صحیح مسلم ہی میں ایک دوسری روایت میں ہے: اروی بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف مروان بن حکم کے رُوبرو دعویٰ کیا ، کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح مسلم ، کتاب المساقاۃ، باب تحریم الظلم و غصب الأرض وغیرھا، جزء من رقم الروایۃ ۱۳۹۔(۱۶۱۰) ، ۳؍۱۲۳۱)۔ اور حافظ ذہبی نے نقل کیا ہے:''اروی بنت اویس نے محمد بن عمرو بن حزم کے پاس آکر شکایت کی کہ ''بلاشبہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے میری جگہ میں [ضفیرہ] بنالیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر انہوں نے نہ کیا [ یعنی میری جگہ خالی نہ کی] ، تو میں ان کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں چیخوں گی۔'' (منقول از: سیر أعلام النبلاء ۱؍۱۰۶) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت