انہوں نے فرمایا: ''اس کو وہ گھر دے دو ، میں نے بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
'' مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَیْرِ حَقِّہِ طُوِّقَہُ فِيْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ اللّٰھُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَأَعْمِ بَصَرَھَا ، وَاجْعَلْ قَبْرَھَا فِيْ دَارِھَا۔''
''جس شخص نے کسی کی بالشت کے برابر جگہ ناحق حاصل کی ، تو روزِ قیامت اس کو اسی [ٹکڑہ زمین] کا سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔''
''اے اللہ!اگر یہ جھوٹی ہے، تو اس کی بینائی کو سلب کر لیجیے ، اور اس کے گھر میں ہی اس کی قبر بنائیے۔'' [1]
راوی نے بیان کیا:'' میں نے اس کو دیواروں کو چھوتے ہوئے اندھے پن میں دیکھا، اور وہ کہتی تھی: ''مجھے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگ گئی ۔''
ایک دن وہ گھر میں چلتے ہوئے گھر میں موجود کنویں پر سے گزری ، تو اس میں گر پڑی ، اس طرح وہی کنواں اس کی قبر بنا۔'' [2]
وہ آئی اور [ضفیرہ] کو گرایا اور [ اس کی جگہ] گھر بنایا۔ تھوڑا ہی وقت گزرا ، تو وہ اندھی ہو گئی۔ وہ رات میں اُٹھا کرتی تھی اور اس کے ساتھ اس کی لونڈی ہوتی تھی۔ ایک رات اُٹھی، تو اس نے باندی کو بیدار نہ کیا ، کنویں میں گری اور فوت ہو گئی۔ (سیر أعلام النبلاء ۱؍۱۰۶۔۱۰۷) ۔ [الضفیرۃ] سے مراداونٹ کی کوہان کی مانند مستطیل شکل کا لکڑی اور پتھروں کا بنایا ہوا کمرہ ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ہو:النہایۃ في غریب الحدیث والأثر ، مادۃ ''ضفر'' ، ۳؍۹۲؛ وغریب الحدیث للحافظ ابن الجوزي ، باب الضاد مع الفاء ، ۲؍۱۳) ۔
[2] صحیح مسلم ، کتاب المساقاۃ، باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرھا ، رقم الحدیث ۱۳۸۔ (۱۶۱۰) ، ۳؍۱۲۳۰۔۱۲۳۱۔