فهرس الكتاب

الصفحة 179 من 216

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:''اس حدیث میں سچ گوئی کی فضیلت اور اس کی ترغیب ہے ، جھوٹ کی مذمت اور اس سے باز رہنے کی تلقین ہے اور [ اس بات کا بیان بھی ہے کہ ] جھوٹ برکت کو ختم کر دیتا ہے اور عمل آخرت [یعنی نیکی] سے دنیا و آخرت کی خیر حاصل ہوتی ہے۔'' [1]

۴: جھوٹ سے دوری ابن عوف رضی اللہ عنہ کی امیری کا ایک سبب:

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ان کے مال کی فراوانی کے اسباب کے متعلق دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے جواب میں فرمایا:

'' مَا کَذَبْتُ قَطُّ ، وَلَا دَلَّسْتُ ، وَلَا بِعْتُ بِدَیْنٍ، وَلَا رَدَّدْتُ فَضْلًا أَيَّ شَیْئٍ کَانَ۔'' [2]

'' میں نے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا ، نہ ہی ہیر اپھیری کی ہے ، نہ ہی اُدھار [سودا] فروخت کیا ہے ، اور میں نے نفع کچھ بھی ہو، ردّ نہیں کیا [یعنی جس نفع پر بھی سودا فروخت ہو رہا ہو ، میں اس کو فروخت کر دیتا ہوں ۔]

ب:جھوٹ کا تاجروں کو فجار بنانے کا ایک سبب:

تجارت میں جھوٹ بولنے کی خرابی اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے، کہ یہ تاجروں کو فاجروں کے زمرہ میں شامل کرنے کے اسباب میں سے ہے۔ [3]

اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو لین دین میں جھوٹ سے محفوظ رکھیں ۔ إِنَّہُ سَمِیْعٌ مُجِیْب۔

[2] ملاحظہ ہو: بہجۃ النفوس ۲؍۲۲۰۔

[3] اس بارے میں تفصیل کے لیے اس کتاب کے صفحات میں ملاحظہ فرمائیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت