فهرس الكتاب

الصفحة 137 من 216

جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ، کہ ایک نیچے ایک اوپر [1] جیسے کہ کہا جاتا ہے:

[إِذَا ھُوَ بِالْمَجْدِ ارْتَدَی وَتَأزرًا۔]

''بزرگی کی ایک چادر اوپر اور ایک نیچے پہن رکھی ہے۔'' [2]

۳: حافظ ابن حجر نے علامہ زمخشری کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:''چدر اور تہ بند سے اس بات کی طرف اشارہ ہے ، کہ وہ سر تاپا ؤں جھوٹ میں لپٹا ہوا ہے۔ ''

حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ مزید تحریر کرتے ہیں:''صیغہ تثنیہ کے استعمال میں اس بات کی طرف اشارہ کا بھی احتمال ہے ، کہ بلادئے پانے کے اظہار میں دو قابل مذمت باتیں ہیں: ظاہر کردہ چیز یا وصف کا فقدان اور باطل کا ظاہر کرنا۔'' [3]

رب کعبہ کی قسم! ایسے عمل والے لوگ ناکام و نامراد ہوئے! اے اللہ کریم! ہمیں ، ہماری اولادوں ، اور سارے اہل اسلام کو ایسی کرتوت سے محفوظ رکھنا۔ آمین یا رب العالمین ۔

ب: اس جھوٹ کی بعض موجودہ شکلیں :

میری ناقص رائے میں علمائے اُمت کے اقوال میں مذکورہ بالا تمام شکلوں پر حدیث شریف میں بیان کردہ مذمت چسپاں ہوتی ہے ، کیونکہ ان سب شکلوں میں غیر موجود خصلت یا چیز کی موجودگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

اس جھوٹ کی چند مزید صورتیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:

ا: حصول ملازمت کے خواہش مند لوگوں کا ایسی صلاحیت اور مہارت کے حصول کا دعویٰ کرنا، جو اِن میں نہ ہو۔

[2] منقول از: فتح الباري۹؍۳۱۸؛ نیز ملاحظہ ہو: الفائق في غریب الحدیث ، مادۃ ''شبع'' ۲؍۲۱۷؛ وعمدۃ القاري ۲۰؍۲۰۴۔

[3] فتح الباري ۹؍۳۱۸، نیز ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۲۰؍۲۰۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت