فهرس الكتاب

الصفحة 180 من 216

مزاحًا جھوٹ بولنا

بعض لوگ مزاح کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں ۔ شریعت اسلامیہ میں اس سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ توفیق الٰہی سے ذیل میں قدرے تفصیل سے اس بارے میں گفتگو پیش کی جارہی ہے:

ا:جھوٹ کا سنجیدگی و مذاق میں نادرست ہونا:

حضرات ائمہ وکیع ، ھناد اور بخاری نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان فرمایا:

'' لَا یَصْلُحُ الْکَذِبُ فِيْ جِدٍّ وَلَا ھَزَلٍ۔'' [1]

''جھوٹ نہ سنجیدگی میں درست ہے اور نہ مذاق میں ۔''

امام بخاری نے اس پر درج ذیل باب قائم کیا ہے:

[بَابٌ لَا یَصْلُحُ الْکَذِبُ] [2]

[جھوٹ کے نادرست ہونے کے متعلق باب]

ب: مزاحًا جھوٹ ترک کیے بغیر ایمان کا نا مکمل رہنا:

امام احمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' لَا یُوْمِنُ الْعَبْدُ الْإِیْمَانَ کُلَّہُ حَتَّی یَتْرُکَ الْکَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَۃِ ،

[2] الأدب المفرد ص ۱۴۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت