فهرس الكتاب

الصفحة 174 من 216

تجارت میں جھوٹ

جھوٹ کی سنگین اقسام میں سے ایک تجارت میں جھوٹ بولنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نحوست بیان فرما کر اُمت کو اس سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ذیل میں اس کے متعلق کچھ تفصیل ملاحظہ فرمائیے:

ا:جھوٹ سے برکت کا خاتمہ:

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا:

'' الْبَیـِّـعَانِ بِالْخِیَارِ مَالَمْ یَتَفَرَّقَا۔ فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُوْرِکَ لَھُمَا فِيْ بَیْعِھِمَا، وَإِنْ کَذَبَا وَکَتَمَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِھِمَا۔'' [1]

''لینے اور دینے والے، دونوں جدا ہونے تک [سودا منسوخ کرنے کا] اختیار رکھتے ہیں ۔ پس اگر دونوں نے سچی بات کہی اور [ چیز کا عیب ] بیان کیا ، تو ان کے لین دین میں برکت ڈالی جائے گی اور اگر دونوں نے جھوٹی بات کہی اور [عیب کو ] چھپایا ، تولین دین کی برکت کو اُٹھا لیا جائے گا۔''

اس حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا ہے، کہ سچی بات اور عیب کو واضح کرنا تجارت کی برکت کا سبب بنتے ہیں اور جھوٹ اور عیب کا چھپانا اس کی برکت کے اُٹھائے جانا کا موجب بنتے ہیں ۔علامہ قرطبی نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے: یعنی اگر لینے اور دینے والے ،دونوں قیمت اور فروخت کی جانے والی چیز کے متعلق سچائی اختیار

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت