فهرس الكتاب

الصفحة 175 من 216

کریں اور ان کے عیوب واضح کریں ، تو قیمت میں اضافے اور چیز میں دائمی نفع کی صورت میں برکت عطا کی جائے گی، اور (مُحِقَتْ) سے مراد یہ ہے کہ برکت کو اُٹھا لیا جائے گا۔ [1]

علامہ عینی نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے: ''برکت کے مٹائے جانے سے مراد یہ ہے ، کہ تاجر مال میں جس اضافے اور بڑھوتی کا قصد کر رہا تھا ، اس کے برعکس اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کو صدق و بیان کے ساتھ اور برکت کے اُٹھائے جانے کو ان کی ضد، چھپانے اور جھوٹ کے ساتھ مشروط فرما دیا۔ [2]

امام بخاری نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ مَا یَمْحَقُ الْکَذِبُ وَالْکِتْمَانُ فِي الْبَیْعِ۔] [3]

[تجارت میں جھوٹ اور [عیب کا] چھپانا،جو [یعنی برکت] ختم کرتے ہیں اس کے متعلق باب]

امام نسائی نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان لکھا ہے:

[مَایَجِبُ عَلَی التُّجَّارِ مِنَ التَّوْقِیَۃِ فِيْ مُبَایَعَتِھِمْ۔] [4]

[تاجروں پر اپنے لین دین میں جو احتیاط واجب ہے۔]

امام ابن حبان نے درج ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[ذِکْرُ الْأَمْرِ لِلْبَیِّعَینِ أَنْ یَلْزَمَا الصِّدْقَ فِيْ بَیْعِھِمَا ، وَیُبَیِّنَا عَیْبًا عَلِمَاہُ ، لِأَنَّ ذٰلِکَ سَبَبُ الْبَرَکَۃِ فِيْ بَیْعِھِمَا۔] [5]

[لینے دینے والوں کے لیے اپنے لین دین میں سچائی اور معلوم شدہ عیب کے بیان کی پابندی کے حکم کا بیان ، کیونکہ ایساکرنا لین دین میں باعث برکت ہے۔]

[2] ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۱۱؍۱۹۵۔

[3] صحیح البخاری ، کتاب البیوع۴؍۳۱۲۔

[4] سنن النسائی، کتاب البیوع، ۷؍۲۴۴۔

[5] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب البیوع، ۱۱؍۲۶۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت