فهرس الكتاب

الصفحة 87 من 216

ب۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کا بُرا انجام:

قرآن کریم میں اس سنگین جھوٹ کے بُرے انجام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تین باتیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:

۱: فلاح سے محرومی:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{قُلْ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ} [1]

[بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر افترا باندھتے ہیں ، وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔]

قاضی ابو سعود نے اس آیت کی تفسیر میں قلم بند کیا ہے:''یعنی نہ تو وہ مصیبت سے بچیں گے اور نہ ہی کبھی مقصود کو حاصل کریں گے۔'' [2]

علامہ شوکانی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: '' [اللہ تعالیٰ پر] ہر افترا پرداز کا یہی حال ہو گا۔'' [3]

۲: اللہ تعالیٰ کی لعنت:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا أُولٰٓئِکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰی رَبِّھِمْ وَ یَقُوْلُ الْأَشْھَادُ ھٰٓؤْلَآئِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَ بِّھِمْ أَ لَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ} [4]

[اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا، جو اللہ تعالیٰ پر افترا باندھتا ہے؟ ایسے

[2] تفسیر أبي السعود ۴؍۱۶۳؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القاسمي ۹؍۶۴۔

[3] فتح القدیر ۲؍۶۶۷۔

[4] سورۃ ھود۔علیہ السلام۔؍الآیۃ ۱۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت