فهرس الكتاب

الصفحة 140 من 216

اس مقام پر [الظن] سے مراد تہمت ہونے کی دلیل یہ ہے ، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا:''ایک دوسرے کے عیوب کی ٹوہ میں نہ لگے رہو ، ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو۔''

کیونکہ ہوتا یوں ہے، کہ ایک شخص کو کسی کے متعلق ابتداء میں تہمت کا خیال آتا ہے ، تو پھر وہ اس کی موجودگی کے بارے میں چھان پھٹک اور بحث و تمحیص کرتا ہے۔'' [1]

حافظ ابن حجر مذکورہ بالا تمام کلام نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں: یہ حدیث ارشادِ ربانی:

{اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا} [2]

[زیادہ[ظن] سے بچو ، یقینا بعض [ظن] گناہ ہیں اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔]

کے مطابق ہے۔اس آیت کا سیاق مسلمان کی عزت کی غایت درجہ حفاظت کے حکم پر دلالت کرتا ہے ، کیونکہ پہلے [ظن] کی بنیاد پر اس کی عیب جوئی سے منع کیا گیا ہے۔ پس اگر [ظن] کرنے والا کہے:''میں تو تحقیق کی غرض سے چھان بین کر رہا ہوں ، تو اس سے کہا جائے گا: ''ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی نہ کرو''،پس اگر وہ کہے، کہ ''میں نے جاسوسی کے بغیر تحقیق کر لی ہے''، تو اس سے کہا جائے گا:''تم ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔'' [3]

۲: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ سے اجتناب تہمت کا عہد لینا:

تہمت کی سنگین برائی پر کے دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے

[2] سورۃ الحجرات؍ جزء من الآیۃ ۱۲۔

[3] فتح الباري ۱۰؍۴۸۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت