د: حضرات ائمہ ابن ابی شیبہ ،ھناد ، ابن ابی الدنیا اور طبرانی نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے فرمایا:
'' عَلٰی کُلِّ یُطوَی الْمُؤمِنُ إلاّ الْخَیَانَۃَ وَالْکِذْبَ ، فَـلَا تَجِدِ الْمُومِنَ خَائِنًا وَلَا کَاذِبًا۔'' [1]
''خیانت اور جھوٹ کے سوا مومن کی تخلیق ہر خصلت پر کی جاتی ہے ۔ تم کسی مومن کو خائن یا جھوٹا نہ دیکھو گے۔''
ھ: امام عبدالرزاق نے امام شعبی رحمہ اللہ تعالیٰ سے نقل کیا ہے، کہ انہوں نے فرمایا:
'' کُلُّ خُلُقٍ یُطوَی عَلَیْہِ الْمُوْمِنُ إِلاَّ الْخِیَانَۃَ وَالْکِذْبَ۔'' [2]
''مومن کی جبلت میں خیانت اور جھوٹ کے سوا ہر خصلت ہوتی ہے۔''
خلاصہ گفتگو یہ ہے، کہ جھوٹ ایمان کے منافی ہے ۔اللہ کریم ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے جھوٹ سے محفوظ رکھیں ۔ آمین یا حي یا قیوم۔
جھوٹ اور شرک کا باہمی تعلق
جھوٹ کی قباحت پر دلالت کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے، کہ بعض آیات اور احادیث میں ، جھوٹ اور شرک دونوں سے ایک ہی مقام پر منع کیا گیا ہے ،یا
[2] المصنف ، کتاب الجامع، باب الکذب والصدق ، وخطبۃ ابن مسعود رضی اللّٰه عنہ ، رقم الروایۃ ۲۰۲۰۱،۱۱؍۱۶۱۔