رقم طراز ہیں:''خیانت اور جھوٹ ایمان کے منافی ہیں ، کیونکہ ایمان تو [امن] سے ہے ، کہ اس [ایمان] نے اس [مومن] کو تکذیب اور مخالفت سے بچا لیا ، علاوہ ازیں وہ [مومن] تو امانت الٰہیہ کا حامل ہے ، لہٰذا اس کو امین ہونا چاہیے، نہ کہ خائن۔'' [1]
ملا علی قاری شرح حدیث میں تحریر کرتے ہیں: ''مومن کی جبلت اور طبیعت میں سچائی اور امانت و دیعت کی گئی ہیں ، جیسا کہ تصدیق و ایمان کا تقاضا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ''صیغہ حصر'' سے فرمایا:
{إِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَأُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ} [2] ' [3]
ج: حضرات ائمہ وکیع ، احمد، ھناد اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے فرمایا:
'' یَا أَیُّھَا النَّاسُ! إِیَّاکُمْ وَالْکِذْبُ ، فَإِن الْکِذْبَ مُجَانِبٌ لِلْإِیْمَانِ۔'' [4]
''اے لوگو! جھوٹ سے بچ جاؤ ، کیونکہ بلا شبہ جھوٹ ایمان کے منافی ہے۔''
[2] سورۃ النحل ؍ الآیۃ ۱۰۵۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ۸؍۶۰۰۔
[4] کتاب الزھد، باب الکذب والصدق، رقم الروایۃ ۳۹۹، ۳/۷۰۰؛ والمسند ، جزء من رقم الحدیث ۱۶، ۱؍۱۶۳؛ (ط: المعارف) ؛ والزھد للإمام ھناد ، باب الصدق والکذب، رقم الروایۃ ۱۳۸۸، ۳؍۲۴۰؛ والصمت وحفظ اللسان للإمام ابن أبی الدنیا ، باب ذم الکذب، رقم الروایۃ ۴۷۵، ص۲۴۳۔۲۴۴۔ روایت کے الفاظ مسند احمد کے ہیں۔ شیخ احمد شاکر ، شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے مسند کی اسناد کو [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ھامش المسند للشیخ أحمد ۱؍۱۶۳؛ وھامش المسند للشیخ الأرناؤوط ورفقائہ ۱؍۱۹۸) ۔ حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے، کہ بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: '' الکذِبُ یُجَانِبُ الْاِیْمَانُ'' (جھوٹ ایمان کے منافی ہے۔) نیز ملاحظہ ہو: ھامش کتاب الزھد للدکتور الفریوائي ۳؍۷۰۰ ؛ وھامش الزھد للشیخ محمد الخیر آبادي ، ص۳؍۲۴۰ ؛ وھامش الصمت للدکتورمحمد عاشور ص ۲۴۴۔