وَیَتْرُکَ الْمَرَائَ وَإِنْ کَانَ صَادِقًا۔'' [1]
''بندہ تب تک مکمل ایمان والا نہیں ہوتا ، جب تک کہ وہ مزاحًا جھو ٹ نہ چھوڑ دے ، اور جب تک کہ و ہ جھگڑا نہ چھوڑ دے ، اگرچہ وہ سچا [ہی] ہو۔''
اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر بیان فرمایاہے، کہ دو باتوں کے بغیر [کتاب وسنت میں بیان کردہ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ] ایمان مکمل نہیں ہوتا اور ان دونوں میں سے ایک بات مزاحًا جھوٹ کا ترک کرنا ہے۔
امام ابو داود نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
'' أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِيْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ ، وَإِنْ کَانَ مُحِقًّا ، وَبِبَیْتٍ فِيْ وَسَطِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ ، وَإِنْ کَانَ مَازِحًا، وَبِبَیْتٍ فِيْ أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلَقَہُ۔'' [2]
''میں جنت کے گردو پیش میں اس شخص کے لیے گھر کا ضامن ہوں ، جو جھگڑا چھوڑ دے ، اگرچہ وہ حق پر ہو ، اور اس شخص کے لیے جنت کے
[2] سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب فی حسن الخلق ، رقم الحدیث ۴۷۹۰، ۱۳؍۱۰۸۔ حافظ منذری نے اس کے متعلق لکھا ہے: اس کو ابو داود ، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: الترغیب والترھیب، کتاب الادب وغیرہ، الترغیب في الخلق الحسن و فضلہ ، رقم الحدیث ۱۵، ۳؍۴۰۶) ۔ شیخ البانی نے اسے [حسن] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود:۳؍۹۱۱ ؛ و سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۲۷۳، ۱)